ترک صوفی شاعر یونس ایمرے 1238ء میں صاری کوئے نامی گاؤں میں پیدا ہوئے جسے آج جدید ترکی میں ایمپرے کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔
وہ غریب گھرانے میں پیدا ہونے کے باوجود مختلف خانقاہوں سے علم کی پیاس بجھاتے رہے اور نالیجان شہر میں قاضی کے عہدے پر فائز تھے کہ صوفی تاپدوک ایمرے کی صحبت اثر کرگئی اور پھر سب سے زیادہ وقت انہوں نے استاد تاپدوک ایمرے کی صحبت میں ہی گزارا اور 40 سال ان کی خدمت کی۔
سلجوقی، منگول اور مختلف قبائل لڑائیوں میں مصروف تھے اس دور میں یونس ایمرے نے انسان دوستی اور بھائی چارے کا پیغام پھیلایا اور سب کو اتحاد، اتفاق اور آپس میں مل جل کر رہنے کی تلقین کی۔
اُس وقت مولانا رومی کا کلام ترکی کی شہری اشرافیہ کی مروجہ ادبی زبان فارسی میں ہونے کی و جہ سے خاص الخاص تھا لیکن یونس ایمرے نے مقامی سطح پر بولی جانے والی ترکی زبان میں ہی کلام بیان کیا۔
یونس ایمرے کو جلال الدین رومی ثانی بھی کہا جاتا ہے اور وہ ترک قوم میں آج بھی اسی طرح مقبول ہیں۔
ان کی شاعری اور تحریروں نے ترکی ادب پر گہرا اثر ڈالا اور انہوں نے اناطولوی ترکی زبان میں تحریریں لکھیں جو جدید ترک زبان کی ابتدائی شکل تھی۔
ترک قوم کے عظیم شاعر کا انتقال 1320ء میں ہوا اور ان کا مزار ترکی کے صوبے اسکی شہر کے قصبے یونس ایمرے میں ہے، اس علاقے کا نام مشہور شاعر کے نام پر ہی رکھا گیا ہے۔
ترکی میں یونس ایمرے کے حالات زندگی پر ٹی وی ڈرامہ بنایا گیا جس کا پہلا سیزن 22 قسطوں پر مشتمل تھا اور یہ 2015 میں نشر کیا گیا جبکہ دوسرا سیزن بھی 22 قسطوں پر مشتمل تھا جو 2016 میں نشر کیا گیا۔


No comments:
Post a Comment