میر غازی ارطغرل بیگ بن سلیمان شاہ قایوی ترکمانی (عثمانی ترک زبان: ارطغرل؛ ارطغرل (Ertuğrul)) ترکی زبان کا لفظ ہے اور دو لفظوں "ار" اور "طغرل" سے مل کر بنا ہے، "ار er" کے معنی آدمی، سپاہی یا ہیرو کے ہیں جبکہ "طغرل tuğrul" کے معنی عقاب پرندے کے آتے ہیں، جو مضبوط شکاری پرندہ کے طور پر مشہور ہے، یوں "ارطغرل" کے معنی عقابی شخص، عقابی سپاہی یا شکاری ہیرو وغیرہ ہوں گے) (وفات: 1280ء) ترک اوغوز کی شاخ قائی قبیلہ کے سردار سلیمان شاہ کے بیٹے اور سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان اول کے والد تھے۔ ولادت کا زمانہ سنہ 1191ء کے آس پاس کا ہے جبکہ سنہ وفات 1281ء بتائی جاتی ہے اور مدفن اناطولیہ کے شہر سوغوت میں واقع ہے۔ ارطغرل غازی ایک بہادر، نڈر، بے خوف، عقلمند، دلیر، ایماندار اور بارعب سپاہی تھے۔ وہ ساری عمر سلجوقی سلطنت کے وفادار رہے۔ سلطان علاؤ الدین کیقباد نے ارطغرل کی خدمات سے متاثر ہو کر ان کو سوغوت اور اس کے نواح میں واقع دوسرے شہر بطور جاگیر عطا کیے اور ساتھ ہی "سردار اعلیٰ" کا عہدہ بھی دیا۔ اس کے بعد آس پاس کے تمام ترک قبائل ان کے ماتحت آگئے تھے۔
معتبر تاریخی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ارطغرل کا تعلق غز ترک قبائل کی شاخ قائی قبیلہ سے تھا اور ان کا خاندان بیگ (سردار) کہلاتا تھا۔۔ تاریخ کی کتابوں میں ارطغرل کی زندگی کے احوال اور ان کی سرگرمیوں سے متعلق پختہ معلومات نہیں ملتیں، البتہ ان کے بیٹے عثمان اول کے ڈھالے ہوئے سکوں سے تاریخی طور پر ان کے وجود کی تصدیق ہوتی ہے۔ ان سکوں میں عثمان اول نے اپنے والد کا نام ارطغرل ضرب کروایا تھا۔
تاہم مجموعہ دستاویزات عثمانی کے مطابق ارطغرل ترکمانی شاہ سلیمان شاہ کا فرزند اور قائی قبیلہ کا سردار تھا جو منگولوں کے حملوں کی وجہ سے مشرقی ایران سے نقل مکانی کر کےاناطولیہ چلے گئے۔ عثمانی دستاویزات میں ارطغرل کا نسب کچھ یوں ملتا ہے: ارطغرل بن سلیمان شاہ بن کندز الپ بن قایا الپ بن کوک الپ بن صارقوق الپ بن قایی الپ۔ قائی قبیلہ انہی سے منسوب ہے۔
عثمانی روایات کے مطابق ارطغرل اپنے والد سلیمان شاہ کی وفات کے بعد ) اپنے رفقا کو لے کر سلاجقہ روم کے پاس گئے اور ان سے زمین کا مطالبہ کیا۔ چنانچہ انھوں نے سوغوت (ترکی: Söğüt) کی زمین ارطغرل کے حوالے کر دی جو اس زمانے میں بازنطینی سلطنت کی سرحد پر واقع تھا اور ارطغرل کو اس کا سردار بھی مقرر کر دیا۔ بعد ازاں اس سرزمین پر کچھ ایسے واقعات پیش آئے جو آگے چل کر سلطنت عثمانیہ کی بنیاد کا سبب بنے۔
اسلام کی سربلندی کی خاطر ارطغرل اور دیگر عثمانی سلاطین کی مجاہدانہ سرگرمیوں کی بنا پر عموماً ان کے ناموں کے ساتھ "غازی" کا لقب لگایا جاتا ہے۔ ارطغرل غازی عمر بھر سلجوقی سلطنت کے وفادار رہے لیکن ان کی زندگی کے آخری ایام میں سلجوقی سلطنت اپنی آخری سانسیں لے رہی تھیں اور منگول سلطنت نے پورے اناطولیہ (موجودہ ترکی) پر قبضہ کر لیا تھا جو ان کے لیے سخت تشویش کا باعث تھا اور ان کی آرزو تھی کہ ایک عظیم اسلامی سلطنت کا قیام عمل میں آئے۔ چنانچہ ارطغرل کے سب سے چھوٹے بیٹے غازی عثمان اول نے ان کا یہ خواب پورا کیا اور ایک عظیم الشان سلطنت عثمانیہ کی بنیاد
رکھی۔
وفات کے وقت ارطغرل کی عمر 90 سال سے زیادہ تھی، سوغوت شہر میں ان مدفون ہیں، ان کی درست تاریخ وفات میں مؤرخین میں اختلاف ہے
مشہور ہے کہ ارطغرل غازی کی وفات قائی قبیلے کی سرداری اپنے بیٹے عثمان اول کے سپرد کرنے کے بعد، سوغوت شہر میں 1281ء یا 1282ء میں ہوئی۔


No comments:
Post a Comment